میڈیا سے متعلق ضابطہ اخلاق
خبر یا معلومات مستند اور ان کے ذرائع بھی قابل اعتماد ہوں جب کہ خبر کو شائع کرنے سے پہلے فیکٹ چیک انتہائی ضروری ہیں۔
پیشہ ورانہ اور اخلاقی اعلیٰ ترین معیاروں کو برقرار رکھنا ہوگا۔ خبر کے معاملے پر کسی بھی سیاسی، مذہبی اور ذاتی اختلاف کو بالائے طاق رکھنا چاہیے۔
تمام فریقین کو منصفانہ نمائندگی دی جانا ضروری ہے۔پیشہ ورانہ فرائض کے دوران ملنے والی معلومات سے کسی قسم کا ذاتی فائدہ نہیں اٹھانا ہوگا۔
ایسی کوئی بھی خبر شائع نہیں کی جانی چاہیے جس سے تفریق، تمسخراور نفرت کو فروغ ملے۔
اگرکسی بھی خبر میں کوئی غلطی ہوجائے تو اسے فوری طور پر درست کرکے اس کی وضاحت بھی دی جائے۔
کسی بھی شخص کی نجی زندگی کے احترام کیا جائے جب کہ سنسنی اور گمراہ کن خبروں کو شائع کرنے سے گریز کیا جائے۔
ادارہ اپنی خبر کا ذمہ دار ہو اور لوگوں کی شکایات اور ان کی آرا کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔
خبر کے حوالے الفاظوں کا چناؤ انتہائی مناسب اور پیشہ وارانہ ہو جب کہ غیر اخلاقی مواد سے بچا جائے۔
زیادتی کے شکار افراد کی شناخت ان کی اجازت کے بغیر ظاہر نہ کی جائے جب کہ بچوں کے معاملے میں خصوصی احتیاط برتی جائے ۔
سرقہ خبریں لینے سے بچا جائے سے جب کہ دوسری جگہ سے حاصل خبروں، ویڈیو یا تصویر کے کاپی رائٹ کا احترام کیا جائے۔
ذاتی مفاد کوہمشہ پس پشت رکھیں اور وہ کبھی بھی اداراتی فیصلوں پر اثرانداز نہ ہوں۔
سوشل میڈیا سے متعلق احتیاط
سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق ادارے کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔
تشدد، لاشوں یا سانحات کے متاثرین کی دل دہلا دینے والی تصاویر شائع یا اپ لوڈ نہ کی جائیں۔
خواتین کیساتھ جنسی زیادتی، لڑکوں اور بچوں کیساتھ ہونیوالی بدفعلی کی شناخت ظاہر نہ کی جائے اور نہ ہی ان کی تصاویر لی جائیں۔
ایسی کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے گریز کریں جو افواہ یا قیاس آرائی پر مبنی ہو جب کہ فیک نیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلتی ہے۔
پیکا اورسائبر قانون کے تحت فیک نیوز کوشیئر کرنا قابل سزا جرم ہوسکتا ہے۔